ابنا: ايم آئي سکس کے سربراہ جان ساروز نے اپني دوسري بپلک تقرير کے دوران کہا ہے کہ برطانيہ کے خفيہ ادارے کے اہلکار ايران کي جوہري سرگرميوں کے خلاف خفيہ کاروائيوں ميں مصروف رہے ہي۔انہوں نے دعوي کيا کہ ايران جوہري ہتھياروں کے حصول کي کوشش کر رہا ہے اور بقول انکے اگر برطانوي جاسوسوں نے خفيہ کاروائيوں کے ذريعے ايران کو جوہري سرگرميوں سے نہ روکا ہوتا تو وہ دوہزار آٹھ ميں ايٹمي ہتھار بنا چکا ہوتا۔ برطانوي خفيہ ادارے کے سربراہ نے يہ دعوي بھي کيا کہ ايران آخر کار ايٹمي ہتھيار بنانے ميں کامياب ہوجائے گا۔امريکہ اور اسکے مغربي اتحادي ايران پر جوہري ہتھياروں کي تياري کا الزام لگاتے چلے آرہے ہيں اور اس کي آڑ ميں انہوں نے ايران کے خلاف غير انساني پابندياں عائد کر رکھي ہيں۔حالانکہ جوہري توانائي کے عالمي ادارے آئي اے اي اے کو تاحال ايسا کوئي ثبوت نہيں ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہو کہ ايران جوہري ہتھيار بنانے کي کوشش کر رہا ہے- ايران کئي بار اس الزام کي ترديد کرچکا ہے اور اسکا کہنا ہے کہ آئي آے اي اے کے رکن کي حيثيت سے ايران کو پرامن جوہري سرگرمياں جاري رکھنے کا حق حاصل ہے۔......./169
12 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 328897
برطانوي اينٹيلي جينس ادارے ايم آئي سکس نے ايران کے پرامن جوہري پروگرام کے خلاف خفيہ سرگرميوں کا اعتراف کرليا ہے۔